جامعہ رشیدیہ مولانا نگر Jamia Rasheediya Maulana Nagar طلب العلم فريضة على كل مسلم علم و عمل کی روشن روایت Islamic Education
جامعہ رشیدیہ مولانا نگر Jamia Rasheediya Maulana Nagar طلب العلم فريضة على كل مسلم علم و عمل کی روشن روایت Islamic Education

مدرسہ کی بنیاد، علاقائی حالات اور پس منظر

قیامِ مدرسہ کے وقت کے علاقائی حالات

جن حالات میں اس مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی، وہ ایسے پُرآشوب حالات تھے کہ جہالت اور تاریکی کی زہریلی فضا نے پرتاپ گڑھ اور اس کے گرد و نواح کو اس قدر متاثر کر رکھا تھا کہ صرف دیہات ہی نہیں بلکہ قصبے اور شہر بھی دینی علوم کی خوشبو اور اس کی برکتوں سے محروم تھے۔

ہر طرف علماء اور حفاظ کی شدید کمی محسوس ہوتی تھی۔ جہالت اور بدامنی اپنے عروج پر تھی۔ لوگ نہ ایک اچھی زندگی گزارنے کے ذرائع سے واقف تھے، نہ آخرت کی تیاری کے وسائل سے اور نہ ہی فلاح و بہبود کے راستوں سے۔ حالات یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ بعض اوقات نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے بھی کوئی شخص بڑی مشکل سے ملتا تھا۔

اگر علاقے میں کوئی دینی شخصیت، میاں جی یا مولوی صاحب موجود ہوتے تو وہ آکر نمازِ جنازہ پڑھا دیتے۔ ان حالات کو دیکھ کر اس دور کے بعض نیک دل بزرگوں کے سینوں میں اسلام کی غیرت بیدار ہوئی۔ ان کے دینی جذبے اور اسلامی حمیت نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اسلام کی مدھم پڑتی ہوئی روشنی کو دوبارہ روشن کریں۔

مجددِ ملت حضرت مولانا محمد یار صاحبؒ کی جدوجہد

ان عظیم شخصیات میں جنہوں نے جہالت اور تاریکی کی خاموشی کو علمِ دین کے چراغ سے روشن کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لی، مجددِ ملت حضرت مولانا محمد یار صاحب پرتاپ گڑھی رحمہ اللہ نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آپ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے ممتاز شاگرد اور خاص رفقاء میں سے تھے اور اپنے شیخ سے روحانی تربیت و اجازت کا شرف بھی حاصل تھا۔

جہالت اور تاریکی کے خاتمے کے لیے حضرت مولانا محمد یار صاحب رحمہ اللہ نے صرف اسی مدرسہ کی بنیاد نہیں رکھی بلکہ متعدد مدارس اور مکاتب بھی قائم کیے اور علاقے کے مسلمانوں میں ایک دینی و اصلاحی انقلاب برپا کیا۔

جامعہ رشیدیہ کا قیام

اپنے شیخ و مرشد شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی ہدایات اور رہنمائی پر مجددِ ملت حضرت مولانا محمد یار صاحب رحمہ اللہ نے 1952ء میں کچہری مسجد، پرتاپ گڑھ میں جامعہ رشیدیہ کی بنیاد رکھی۔ کچھ عرصہ تک وہیں تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رہا۔

کچھ عرصہ بعد حضرت مدنی رحمہ اللہ خواب میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: ’’محمد یار! مدرسہ کو اپنے آبائی علاقے میں لے جاؤ۔‘‘

چنانچہ حضرت مولانا محمد یار صاحب رحمہ اللہ نے مدرسہ کو وہاں سے اپنے گاؤں کے قریب ناگاپور منتقل فرمایا۔ بعد ازاں ناگاپور سے اسے مجددِ ملت کے گھر کے قریب واقع گاؤں میں منتقل کیا گیا، جہاں یہ ادارہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہوا۔

گاؤں کے صاحبِ ثروت بزرگ حاجی جمشید صاحب نے اس کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہونے کے ساتھ مدرسہ اور اس کی مسجد ناکافی ہونے لگی۔ اس لیے ایک ایسی مستقل عمارت کی ضرورت محسوس ہوئی جہاں اساتذہ اور طلبہ اطمینان کے ساتھ رہ سکیں اور طلبہ کو اساتذہ کی نگرانی میں دینی تعلیم و تربیت کا مناسب ماحول میسر ہو۔

ابتدائی دور کی مشکلات اور عظیم قربانیاں
اخلاص، ایثار اور خدمت کی روشن مثال

ابتدائی ایام میں وسائل کی کمی کے باعث مدرسہ کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ مجددِ ملت کی اہلیہ اور حضرت قاضی صاحب کی محترمہ والدہ اپنے ہاتھوں سے گندم پیستی تھیں، روٹیاں پکاتی تھیں اور طلبہ کو کھانا کھلاتی تھیں۔

مدرسہ میں مقیم یتیم اور غریب طلبہ کی دیکھ بھال اور پرورش بھی وہ خود کرتی تھیں۔ ان کے کپڑے دھونا، انہیں نہلانا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی اپنی ذمہ داری سمجھتی تھیں۔

اس عظیم خدمت میں مجددِ ملت کی بڑی بہو، موجودہ ناظم و مہتمم حضرت قاضی صاحب کی اہلیہ نے بھی بھرپور تعاون کیا اور اپنے ہاتھوں سے طلبہ کے لیے کھانا تیار کیا۔

ان مقدس شخصیات نے اس ادارے کی آبیاری کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین!

بعد کی ترقی اور توسیع

بعد ازاں اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سے مجددِ ملت کے بڑے صاحبزادے اور جامعہ رشیدیہ کے ناظم حضرت قاضی محمد امین صاحب کی نگرانی میں مدرسہ ترقی کی راہ پر گامزن رہا۔ طلبہ کی تعداد بڑھتی گئی اور جگہ دوبارہ ناکافی ہونے لگی۔

حضرت قاضی صاحب کے بڑے صاحبزادے مولانا مفتی محمد فیصل صاحب کی مخلصانہ کوششوں کے ذریعے مدرسہ کے لیے دو علیحدہ دو منزلہ عمارتیں تعمیر کی گئیں اور مسجد کی بھی توسیع کی گئی۔

مدرسہ رشیدیہ سے جامعہ رشیدیہ تک

قیام کے اعتبار سے ابتدا میں اس ادارہ کا نام ’’مدرسہ رشیدیہ‘‘ رکھا گیا، لیکن ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے یہ ’’جامعہ رشیدیہ‘‘ کے نام سے معروف ہوگیا۔ اس کی نسبت قطب الارشاد، امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کی طرف کی گئی، جنہوں نے ہندوستان میں عقائد کی اصلاح اور دین کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا فرمایا۔

دینی خدمات کا روشن سفر

قیام کے بعد سے یہ جامعہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بے لوث دینی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس ادارہ کی علمی و دینی فضا میں ہزاروں طلبہ نے تعلیم حاصل کی، جو آج ملک اور بیرونِ ملک دینی، اخلاقی اور اصلاحی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ الحمدللہ!

جامعہ کا تعلیمی نظام

اس ادارہ میں مختلف علوم و فنون اور تعلیمی شعبہ جات کے ذریعے طلبہ و طالبات کی دینی و علمی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے:

۱

ابتدائی تعلیم و حفظِ قرآن

ابتدائی تعلیم کے ساتھ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے حفظِ قرآن کریم کا انتظام اور خواتین کے لیے الگ شعبہ قائم ہے۔

۲

عالم و عالمہ کورس

لڑکوں کے لیے عربی سوم تک عالم کورس اور لڑکیوں کے لیے مکمل عالمہ کورس کی تعلیم کا نظم ہے۔

۳

اردو و انگلش میڈیم

اردو اور انگلش میڈیم کے ذریعے جماعت ہشتم تک تعلیم دی جاتی ہے، جو حکومتِ ہند سے باقاعدہ طور پر تسلیم شدہ ہے۔

۴

عربی تعلیم

طلبہ کے لیے عربی اول، عربی دوم اور عربی سوم کے نصاب کی تعلیم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

۵

عربی زبان کی خصوصی تربیت

ماہر اساتذہ کی نگرانی میں طلبہ کی درسی کتابوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور ان کی عربی زبان کی صلاحیت کو نکھارا جاتا ہے۔

علم، ایمان، خدمت اور اصلاح کا روشن سفر
اسلام کی خدمت اور علم و کردار سے نسلوں کی تربیت
📍 Our Address
Address: Jamia Arabia Rashidiya Maulana Nagar Ugaipur post office Sagra Sunderpur district Pratapgarh UP India pin code 230136
Address: Jamia Arabia Rashidiya Maulana Nagar Ugaipur post office Sagra Sunderpur district Pratapgarh UP India pin code 230136

Phone: +91 9621830040
anjumansociety3@gmail.com

FOLLOW US

Designed & Developed by Grow More Digital Technology

Scroll to Top